3 دسمبر 2013 - 20:30
کون ہے جو آل صہیون اور آل سعود کے درمیان رابطے کا کردار ادا کررہا ہے؟

دنیا کی سب سے زیادہ صاحب ثروت، سب سے زیادہ آمرانہ اور استبدادی نظام حکومت یعنی سعودی عرب ـ جو دنیائے عرب کی قیادت کا مدعی بھی ہے اور انسان کے لئے کسی حق کا قائل نہیں ہے اور اب صہیونیت کا ہاتھ بٹانے کے لئے ایران کے مقابلے پر اتر آیا ہے اور صہیونی ریاست کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اپنے تمام تر وسائل ایران کے خلاف بروئے کار لا رہا ہے اور اس کے لئے اس نے حتی کہ عربوں اور مسلمانوں کے ناقابل اعتماد دشمن صہیونی ریاست کے ساتھ اپنا اتحاد بھی برملا کردیا ہے ـ ایران کو مشترکہ دشمن سمجھ کر ریاض اور تل ابیب کے درمیان ناقابل خدشہ رابطہ برقرار کرچکا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہودی ریاست کے ساتھ آل سعود کے تعلقات یکطرفہ ہیں ورنہ صہیونی یہودی کسی صورت میں بھی کسی عرب کے دوست نہیں بن سکتے اور آل سعود در حقیقت غاصب صہیونی ریاست کو بچا کر اپنے بچاؤ کی تدبیر کررہے ہیں جس کے لئے اس نے ایران کو مشترکہ دشمن کے طور پر متعارف کرایا ہے اور اب گویا ان کے درمیان تزویری اتحاد قائم ہونے لگا ہے۔ اس رپورٹ میں آل سعود اور آل صہیون کے درمیان سیاسی، عسکری اور معاشی تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا۔ صہیونی ـ سعودی مشترکہ اہداف "آل سعود کے رجعت پسند حکام صہیونیوں کے مفاد میں قدم اٹھا رہے ہیں"۔ یہ عبارت آج کل عالمی ذرائع میں ایک رائج عبارت ہے اور آپ اس کو کسی بھی اخبار یا ویب سائٹ پر پڑھ سکتے ہیں اور کسی بھی چینل سے سن سکتے ہیں۔ اطالوی اخبار "کورئیرے دیلاسیرا" خطے میں اسرائیل کی نیابت میں آل سعود کی جنگ پسندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ریاض نے اہل تشیع کو نقصان پہنچانے کے لئے حتی شام پر عالمی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی کیونکہ بشار الاسد شیعہ ہیں۔ آل سعود نے گستاخی کی انتہا کرتے ہوئے امریکہ کو پیشکش کی کہ وہ شام پر حملہ کرے تو سعودی عرب جنگ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کے لئے تیار ہے! بندر بن سلطان، ریاض اور تل ابیب کے درمیان واسطہ ہے عالمی دہشت گرد تنظیموں کا سربراہ بدنام زمانہ "بندر بن سلطان" کو عالمی ذرائع ابلاغ بخوبی جانتے ہیں۔ وہ سعودی انٹیلجنس ایجنسی کا سربراہ ہے اور شام اور عراق سمیت علاقے میں جہاں بھی جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں یا کہیں کوئی دہشت گردانہ کاروائی ہوتی ہے وہاں آپ کو بندر بن سلطان کا نقش پا واضح طور پر دکھائی دے گا۔ بندر بن سلطان 22 سال تک واشنگٹن میں سعودی سفیر تھا، بش خاندان سے اس کے تعلقات کی سطح بیان کرنے کے لئے یہی کہنا کافی ہوگا کہ اس کو بندر بش بھی کہا جاتا ہے۔ اس نے کئی بار خفیہ طور پر مقبوضہ فلسطین ابیب کا دورہ کرکے یہودی ریاست کے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں؛ اردن اور یورپی ممالک میں بھی صہیونی حکام سے اس کی ملاقاتوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ وہ اس وقت اردن ہی میں مقیم ہے اور حال ہی میں اس نے یہودی ریاست کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ تامیر پاردو سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں ایران کا مسئلہ اور خاص طور پر ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا مذاکرات موضوع بحث رہے۔ ایک تجزیہ نگار نے پریس ٹی وی کو بتایا کہ جنیوا کہ پچھلے دور کے مذاکرات آل سعود اور صہیونی ریاست کی مداخلت کی وجہ سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے تھے اور یہ کہ بندر بن سلطان نے نے یورپی سفارتکاروں سے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک ایران پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں تو سعودی عرب امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا رخ اسرائیل کی طرف پلٹ دے گا۔ بندر نے گذشتہ ستمبر میں امریکہ کے شام پر حملے کا امکان ختم ہونے اور ایران کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر مذاکرات کے لئے واشنگٹن کی آمادگی کے بعد کہا تھا کہ اب وہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں اہم تبدیلی کو مد نظر رکھے گا۔ خلیج فارس کی عرب ریاستوں اور یہودی ریاست کے تعلقات صہیونی اخبار "ذمارکر" نے حال ہی میں عرب ریاستوں کے ساتھ اسرائیل کے خفیہ تعلقات کو فاش کردیا ہے اور ان ریاستوں بالخصوص سعودی حکومت کے ساتھ معاشی تعاون کا پردہ فاش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وقت بہت سی اسرائیلی کمپنیاں اپنی مصنوعات سعودی عرب کو برآمد کررہی ہیں۔ اس اخبار نے لکھا ہے: اسرائیل سے سعودی عرب برآمد ہونے والی مصنوعات فنیاتی ہیں اور یہ کمپنیاں امریکی کمپنیوں کی آڑ میں اور ریاض اور واشنگٹن کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات سے فائدہ اٹھا کر اپنی مصنوعات سعودی عرب برآمد کررہی ہیں جن میں رابنٹیکس کمپنی کا بلٹ پروف لباس بھی شامل ہے۔ صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت اپنی ایک رپورٹ میں لکھتا ہے کہ اسرائیل کی بارہ کمپنیاں اپنی مصنوعات سعودی عرب کو برآمد کرتی ہیں جن میں میڈیکل اوزار، کیمیاویں کھادیں، معدنی مواد اور مختلف قسم کی مشینیں شامل ہیں۔ اس اخبار کے مطابق فنیاتی یا ٹیکنالوجیکل مصنوعات اور عسکری مصنوعات کے علاوہ پلاسٹک مصنوعات بھی وہ مصنوعات ہیں جنہوں نے اسرائیل اور خلیج فارس کی ریاستوں ـ بالخصوص سعودی عرب ـ کے درمیان وسیع تجارتی تعاون کے لئے راستہ ہموار کردیا ہے۔ کیونکہ پلاسٹک مصنوعات کا خام مواد پولی ایتھیلین (POLYETHYLENE) اور پروپیلین (Polypropylene) ہے جو تیل ہی سے حاصل ہوتا ہے اور یہ مواد سعودی عرب سے ایک ثالث ملک کے ذریعے اسرائیل پہنچتا ہے اور یہودی ریاست کے حکام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ مواد سعودی عرب میں ہی تیار ہوتا ہے اور وہ اس کو پلاسٹک مصنوعات بنانے میں استعمال کرکے ان مصنوعات کو سعودی عرب لوٹاتے ہیں اور سعودی بھی جانتے ہیں کہ یہ مصنوعات کہاں سے آتی ہیں اور ان کا خام مواد کہاں تیار ہوتا ہے۔ ذمارکر انقرہ میں سابق اسرائیلی سفیر "لیون لیئال" کے حوالے سے لکھتا ہے: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خلیج فارس کی عرب ریاستیں اسرائیل کی تجارتی سرگرمیوں کے لئے بہت زيادہ مناسب منڈی فراہم کرتی ہیں اور ان ریاستوں میں برآمدہ مصنوعات سے ملنے والا منافع بھی بہت عظیم ہے۔ اس اخبار کے مطابق خلیج فارس کی ریاستیں صہیونی ریاست کی سیکورٹی مصنوعات کے بہت شوقین ہیں اور داخلی سلامتی کے لئے استعمال ہونے والی مصنوعات اسرائیل سے درآمد کرنے پر تاکید کرتی ہیں؛ کئی ریاستیں تیل کے کنوؤں کے تحفظ کے لئے اسرائیلی ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں اور حتی کہ ان میں سے ایک ریاست نے تو ان آلات کے استعمال کے لئے یہودی ریاست سے ماہرین بھی بھرتی کردیئے ہیں۔اسی رپورٹ کے مطابق صہیونی ریاست اس وقت میڈیکل اوزار، زرعی شعبے میں بروئے کار لائی جانے والی مصنوعات اور پانی سے متعلق اوزار و آلات ان ریاستوں میں برآمد کررہی ہے۔ ذمارکر سوئٹزرلیند میں مقیم ایک صہیونی "ناوا ماشیح" ـ جو خلیج فارس کی ریاستوں اور یہودی ریاست کے درمیان تجارتی واسطے کا کردار ادا کررہا ہے ـ کے حوالے سے لکھتا ہے: گوکہ عرب ریاستوں کے ساتھ تجارت کو نشیب و فراز کا سامنا ہے لیکن اس وقت دنیا کی سطح پر ریاض، دبئی، ابوظہبی اور قطر اسرائیلی تاجروں کے لئے بہترین اور منافع بخش ترین منڈیاں ہیں۔ یہودی ریاست کے سعودی دورے مغربی ذرائع ابلاغ کی عادت ہے کہ وہ کبھی کبھی سعودی ـ یہودی تعلقات کی طرف خصوصی توجہ دینا شروع کرتے ہیں۔ جون 2008 میں صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت کے ایک نامہ نگار نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور 15 جنوری کو اس اخبار کے صفحۂ اول پر اعلان کیا کہ اخبار کا نامہ نگار "ارولی ازولائے" جارج بش جونئیر کے ہمراہ سعودی عرب میں داخل ہوا ہے۔ اخبار نے سعودی عرب میں اس شخص کی بعض تصاویر بھی شائع کیں۔ازولائے اپنے اس سفر کے بارے میں کہتا ہے: ہم جب ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچے تو سعودی وزارت اطلاعات کے نمائندے نے مجھے اخبار نویسی کا کارڈ تھما دیا اور میں نے ریاض میں اپنے اخبار کے لئے "وقتی دفتر!" کا افتتاح کیا۔ اس نامہ نگار نے کہا: میں جب اپنے اخبار کے دفتر پہنچا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس پر انگریزي زبان کا ایک بورڈ لگا ہوا تھا: Office Of the newspaper "Yediot Ahronot"وہ لکھتا ہے کہ یہ تمام اقدامات سعودی حکومت کی منظوری سے انجام پائے تھے؛ ایک صہیونی اخبار نویس کے ریاض پہنچنے کی خبر نے سب کو متجسس کردیا تھا جس کی وجہ سے سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے تین نمائندے میرے پاس پنہچے اور مجھے ایک براہ راست سیاسی پروگرام کے لئے مدعو کیا اور میں نے ان کی دعوت قبول کرکے ٹیلی ویژن کے لائیو پروگرام میں شرکت کی اور یوں سعودی سرکاری ٹی وی پر ایک صہیونی نامہ نگار کی شرکت سے ایک پروگرام نشر ہوا۔ اور میں جس ہوٹل میں ٹہرا تھا وہاں سعودی وزارت اطلاعات کے نمائندے نے مجھ سے ملاقات کی اور کہا "ہمیں امید ہے کہ اس دفعہ اسرائیل اور تمام عرب ممالک کے درمیان امن و آشتی بحال ہوجائے"۔ ازولائے نام لئے بغیر لکھتا ہے: ایک سعودی اہلکار [صبرا و شتیلا کے قصائی] ایریل شیرون کی صحت کے بارے میں بہت زیادہ فکرمند تھا اور مسلسل اس کی صحت کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا اور کہتا تھا کہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ ایریل شیرون کی صحت کے بارے میں کیوں کچھ نہيں لکھتے؟ازولائے لکھتا ہے کہ اس سال (2013) میں بھی میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے پر گیا تھا لیکن اس بار سب کچھ خفیہ نہ تھا بلکہ معمول کے مطابق تھا اور سعودی حکام کے ساتھ میری ملاقاتیں سب کے سامنے ہوٹل کی لابی میں، اور میرے اخبار کے "وقتی دفتر!" [جس کا افتتاح 2008 میں ہوا تھا] میں ہوئیں؛ سنہ 2008 میں مجھے ایک اسرائیلی اخبار نویس کی حیثیت سے خدشہ تھا کہ کہیں سعودی باشندے مجھے اذیت نہ پہنچائیں لیکن اس بار ایسا کچھ محسوس نہيں ہورہا تھا۔ صہیونی اخبار نویس کہتا ہے: 2008 میں مجھے سعودی اہلکاروں نے سکھایا تھا کہ میں ہوٹل سے باہر نکلتے وقت سر پر کوئی رومال ڈالا کروں! میں نے ایسا ہی کیا اور ریاض میں خوب گھوما پھرا اور وہاں کے مشاہدات اور مسموعات نیز تاثرات کو اکٹھا کرلیا جن میں یہ بات بھی شامل تھی کہ سعودی باشندے امریکی صدر کے دورے کے سلسلے میں آل سعود کی طرف سے شدید انتظامی اقدامات اور گھٹن کی فضا سے ناراض تھے۔ مجھے ہوٹل اور ریسٹورنٹ میں بڑی تکلیف ہورہی تھی جہاں مجھے کسی عورت کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت نہيں دی جارہی تھی اور مجھے مک ڈانلڈ ریسٹورنٹ بھی ترک کرنا پڑا جہاں باپردہ عورتیں بڑي دشواری سے سینڈوچ کھا رہی تھیں۔ یہ جنوری کی باتیں ہیں اور مارچ کے مہینے میں عالمی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا کہ وہابیت اور آل سعود کے مفتی اعظم عبدالعزیز آل الشیخ نے صہیونی رابیوں کو "مذہبی آشتی کانفرنس" میں مدعو کیا جو ریاض میں منعقد ہورہی تھی۔ عجب یہ ہے کہ آل سعود کا یہ درباری مفتی تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتا ہے لیکن صہیونی ـ یہودی رابیوں کو مذہبی آشتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتا ہے!!!ان ذرائع نے انکشاف کیا کہ عبدالعزیز آل الشیخ نے "عرب ـ صہیونی فرینڈشپ تنظیم" کے نمائندے "آہارون عفرونی" کو فون کیا اور اس کو ریاض آنے کی دعوت دی۔ اپریل 2012، میں صہیونی اخبار ہا آرتص نے لکھا: سعودی عرب اسرائیل کے لئے ایک دشمن سے ایک دوست میں تبدیل ہوگیا ہے اور دوطرفہ مذاکرات علاقے میں سفارتی مفاہمت کا راستہ ہموار کرسکتے ہیں۔ ہاآرتص نے اس رپورٹ میں سعودی وزير دفاع کے دورہ امریکہ اور صدر اوباما سے اس کی ملاقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا: اس ملاقات میں ایران، بحرین میں جاری تناؤ اور خلیج فارس میں امریکی بحری قوت پر بات چیت ہوئی۔ ہاآرتص کے مطابق امریکہ کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ سعودی سیکورٹی اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے؛ یہ ایسا ملک ہے جہاں تین افراد حکومت کرتے ہیں۔ 2 کروڑ ستر لاکھ کے اس ملک میں 55 لاکھ غیر ملکی رہتے ہیں جبکہ سعودی نوج